ابنا: موصولہ خبروں کے مطابق نبيل کے وکيل نے اس خـبر کي تصديق کرتےہوئے کہا ہے ان کے موکل پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہيں-نبيل رجب بحرين کے انساني حقوق مرکز کے سربراہ ہيں اور وہ مظاہرين کے خلاف سيکورٹي فورس کے تشدد آميز اقدامات پر تنقيد کرتے رہے ہيں-انہوں نے ايک سال قبل حکومت مخالف سرگرميوں ميں حصہ لينے کے الزام ميں گرفتار کيا تھا-نبيل رجب اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کي ترديد کرچکے ہيں- انکا کہنا ہے کہ وہ حکومت کي جانب سے انساني حقوق کي خلاف ورزيوں پر صدائے احتجاج بلندکر تے رہيں گے-دوسري جانب بحريني عوام نےشہرکان ، المصلي ، جد حفص ، سلما باد ، اور سماہيج شہروں ميں شاہي حکومت کے خلاف مظاہرے کئے ہيں-مظاہرين نے اس بات کا اعلان کيا کہ وہ حکومت کي طرف سے اعلان کردہ مذاکرات کے جھانسے ميں نہيں آئيں گے مظاہرين کا کہنا تھا کہ آل خليفہ حکومت کي سرنگوني تک اپنے مظاہرے جاري رکھيں گے مظاہرين نے سياسي قيديوں کي رہائي کا مطالبہ پھر دوہرايا-
.......
/169